قاری کو رلانے کے طریقے۔۔۔
ہر لکھاری چاہتا ہے جب وہ قاری کو ہنسانا چاہے تو وہ ہنسے جب رلانا چاہے تو روئے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ قاری کو رلانا آسان ہے بنسبت ہنسانے کے ۔ سب لکھاری مزاح اچھا نہیں لکھ سکتے کیونکہ مزاح لکھنے کے لیے قوائد پر عمل کرنا ضروری نہیں ہوتا مزاح اندر سے نکلتا ہے۔ اور ہاں ضروری نہیں آپ کے لطیفوں پر دس لوگ ہنسنتے ہیں تو باقی دنیا بھی ہنسے۔
تو بات ہے قاری کو رلانے کی۔ اس کے لیے ہم جان ناول کو دیکھیں گے کیونکہ اس ناول پر ایک دنیا روئی ہے۔ مجھے جان پڑھتےوقت رونا نہیں آیا تھا بس دل دکھا تھا۔ یہاں ایک اور چیز شامل کرتی جائوں ہو سکتا ہے آپ نے بڑا جذباتی کرنے والا سین لکھا ہو مگر کچھ کو پھر بھی اس پر رونا نہ آئے اور کچھ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔ جس طرح ہر لکھاری ایک سا نہیں لکھ سکتا ہر قاری بھی ایک سا مزاج نہیں رکھتا۔ مجھے تحریر کے ذریعے رلانا ناممکن ہے۔ اس میں تحریر کی کوتاہی نہیں ہے بلکہ میرا مزاج مختلف ہے۔
اب جان ناول کو دیکھ لیتے ہیں۔ اگر آپ نے جان ناول پڑھنا ہے تو یہ بلاگ مت پڑھیں میں سسپنس خراب کر دوں گی۔ میرا مشورہ ہے آپ جان ناول پہلے پڑھ کر یہ بلاگ پڑھیں گے تو زیادہ اچھے سے ہر نقطہ سمجھ سکیں گے۔
جان ناول فرسٹ پائنٹ آف یو سے لکھا ہے یعنی کردار کہانی سنا رہا ہے۔ عائشہ ایک ٹیچر ہے جو کسی سرد علاقے میں رہتی ہے برف باری پڑ رہی ہے یا شاید پڑنے والی ہے وہ کسی کا انتظار کر رہی ہے اور جس بندے کا وہ انتظار کر رہی ہے اس کے کچھ سوال ہیں جن کا جواب عائشہ کے پاس نہیں۔ عائشہ اخبار اٹھاتی ہے تو ہمیں یعنی قاری کو پتا چلتا ہے کہ بندہ فوجی ہے اور اس کا رینک بڑا ہے اور وہ انٹریو میں محبت کی بات کرتا ہے انڈرسٹوڈ سی بات ہے وہ عائشہ کی ہی بات کررہا ہے۔
قاری کے ذہن میں سوال اٹھتے ہیں کہ عائشہ کو کن سوالات کا جواب دینا ہے اور وہ کیوں اکتائی ہوئی ہے؟ اتنا کامیاب بندہ ہے عائشہ کو کیا مسئلہ ہے آخر پھر ہم عائشہ کے بچپن کی طرف چلے جاتے ہیں۔ یہاں ایک نقطے پر غور کریں کہ بچپن انسان کے لیے سب سے اہم اور خوبصورت دور ہوتا ہے۔ کسی انسان کا بپچن کتنا ہی بھیانک ہو کوئی نا کوئی اچھی یاد ہوتی ہی ہے۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ بچپن کے لیے ہر انسان کچھ حد تک جذباتی ہوتا ہے۔ خاک اور خون کا آغاز سلیم کے بچپن سے ہوتا ہے۔
قاری کو رلانے کے لیے لکھاری اسے کردار کے ساتھ تعلق بننے کا موقع دے۔ اور بچپن کے بارے میں لکھنے سے قاری تھوڑا سا ہی سہی کردار کے ساتھ تعلق بنا لیتا ہے۔
عائشہ بچپن میں بہت کام چور ہوتی ہے اسے پڑھائی سے نفرت ہے وہ کھانے کی شوکین اور ضدی ہے وہ امیر ہے اور بہت لاڈلی بھی سونے پر سہاگا اس کے پاس منگیتر بھی ہے جو اسے پڑھانا چاہتا ہے اور پتلا کرنا چاہتا ہے۔
عائشہ کی زندگی بہت مکمل ہے وہ گھر بھر کی لاڈلی ہے اس کی شادی ہونے والی ہوتی ہے کہ اس کے منگیتر کا قتل کر دیا جاتا ہے اور یوں سب کچھ درہم برہم ہوگیا۔ اس کا کزن جو اسے پسند کرتا تھا ان دونوں کی شادی ہوجاتی ہے چیزیں ٹھیک ہونے لگتی ہیں کہ ایک دھامکا ہوتا ہے جس میں عائشہ کی اولاد اس کے ماں باپ اور شوہر مارے جاتے ہیں۔ یہ حصہ جذباتی کرنے والا اس لیے بھی تھا کہ عائشہ کا بھائی اسے بچے کی موت کا نہیں بتاتا بلکہ اپنا بیٹا اس کی گود میں ڈال دیتا ہے عائشہ کو جب پتا چلا تو اس نے بھابھی کو بیٹا واپس کر دیا اب عائشہ خالی ہاتھ ہے وہ جو اتنی لاڈلی اور ضدی تھی یوں لٹی پٹی اپنی قسمت دیکھ رہی ہے۔ وہ پڑھنا شروع کر دیتی ہے بھابھی کا سلوک اس سے اچھا نہیں۔
جو شاہ زیب ہے مجھے اس سے خاص ہمدری نہیں ہے لیکن اکثر کو ہے کیونکہ وہ آخر میں شہید ہوجاتا ہے تو ایک چیز یہ بھی ہے کہ کردار کو آخر میں مار دیں آپ کی کہانی امر ہوجائے گی۔
عائشہ کا اور قاری کا تعلق بن گیا بچپن کا پڑھ کر کیونکہ ہر انسان کو بچپن عزیز ہوتا ہے۔ دوسرا نقطہ یہ ہے کہ سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا آہستہ آہستہ چیزیں خراب ہونے لگ گئیں پھر چیزیں ٹھیک ہوتیں لیکن کچھ عرصے بعد کوئی نا کوئی مر جاتا مختصر یہ ہے کردار کو بہت خوش دکھائیں کہ وہ تو آسمانوں میں اڑ رہا تھا پھر اس بچارے کو زمین پر پٹخ دیں۔ مجھے یہی قائدہ نظر آیا ہے کہ پہلے کردار اور قاری کا تعلق بنایا جاتا ہے۔ کردار بہت خوش ہے اور پھر اس کی خوشیوں کو چھین لیا جاتا ہے۔ اگر پہلے صفحے میں کردار کسی کی موت پر روئی جا رہی ہے تو قاری کو خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اس کے اور قاری کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔
کردار کو جتنا تڑپائیں گے قاری کا دل اتنا ہی روئے گا۔
تو نمبر ایک بات کہ قاری کو ذہن میں رکھیں۔ سب قاری نہیں روتے چاہے جتنا شاندار سین لکھا ہو۔
نمبر دو بچپن کی اہمیت قاری کو رلانے کے لیے کردار کا اور قاری کا تعلق بنانا ضروری ہے۔
نمبر تین کردار کو خوش دکھائیں پھر سب تباہ کر دیں۔
آخر میں ہوسکتا ہے ان میں سے ایک بھی بات آپ کے کام نہ آئے کیونکہ آپ کو لکھ لکھ کر ہی اچھا لکھنا آئے گا صرف بلاگز پڑھ کر نہیں۔