لکھنا چھوڑ دیں کیونکہ۔۔۔


فکشن بچوں کا کھیل نہیں۔ دماغ میں کہانی سوچنا کئی گنا آسان ہے لیکن اسے صفحہ قرطاس پر اس مہارت سے اتارنا کہ پڑھنے والا ڈوب کر پڑھے وہ بھول جائے کہ فکشن کا مطلب جھوٹ ہے وہ بھول جائے یہ جو وہ پڑھ رہا ہے وہ محض کسی کے خیالات ہیں وہ ہر صفحے پر کرداروں کو زندہ محسوس کرے سانس لیتا اور مرتا بھی محسوس کرے۔

فکشن صرف یہ نہیں کہ تھا راجہ ایک تھی رانی دونوں مر گئے ختم کہانی۔ فکشن یہ ہے کہ فلانے ملک کی فلانی سلطنت کا فلانا راجہ جس کی ملکہ فلانی راجہ کی بیٹی تھی ان دو فلانوں نے کیسے زندگی گزاری اپنے لوگوں کے ساتھ ان کا کیا سلوک تھا لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے تھے راجہ رانی کی کیا زندگی تھی کیا خیالات تھے خود کو لے کر ایک دوسرے کو لے کر اپنی زندگی کو لے کر کیا نظریہ تھا ان کا کیا ان کے بچے تھے؟ کیا نہیں تھے؟ کیوں نہیں تھے؟ ان کی شادی کیوں ہوئی؟ کیسے ہوئی؟ سلطنت کا انتظام کیسے چلتا؟ وہ آخر میں مر گئے تو کیسے مرے؟ کس نے مارا؟ کیا طبعی موت مرے یا قتل ہوئے؟ کیا قاتل پکڑا جائے گا؟ مرنے کے بعد تخت کسے ملے گا؟ کیا سلطنت میں جمہوریت کا آغاز ہوگا؟

سو فکشن کرداروں کے ساتھ چلنا ہے۔ یہ یقین دلانا کہ وہ اصل ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ کہانیاں محض کہانیاں ہی رہ جاتی ہیں اس کے باوجود ان کی ھقیقت منوانا اصل ہنر ہے۔ جس کہانی کو پڑھ کر نہ لگے کہ یہ اصل نہیں تو وہ فلاپ ہے۔ کبھی سوچا ہے کہ جادوئی قالین جھوٹ ہونے کے باوجود اتنا اصل کیوں لگتا ہے؟ کیونکہ کہانیاں اس انداز میں لکھی جاتی ہیں کہ وہ اصل لگنے لگتی ہیں۔ 

عمر جہانگیر ایک فرضی کردار ہے پھر کیوں ایک دنیا اس کی موت پر روئی؟ وہ اس لیے کہ مصنفہ نے پچھلے چھے سو صفحات میں کردار اور ریڈر کا ایک تعلق بنا دیا تھا۔ اگر عمر جہانگیر پہلے صفحے پر مار دیا جاتا تو کسے فرق پڑنا تھا؟ 

بہترین کہانی وہ ہے جس میں ریڈر کرداروں سے جڑ جائیں وہ ایک تعلق محسوس کریں۔ اور اگر آپ یہ تعلق نہیں پیدا کر    سکتے تو مت لکھیں۔ اگر آپ محض چسکے کے واسطے لکھ رہے ہیں تو خود کو لکھاری کم از کم مت کہیں۔ بے مقصد لکھ کر آپ وقتی پزیرائی حاصل کر سکتے ہیں مگر کیا واقعی ایک گھسی پٹی کہانی لکھ کر آپ ہر بڑے چھوٹے کو فخریہ بتلا سکتے ہیں کہ میں ایک لکھاری ہوں؟ 

لکھنا چھوڑ دیں اور پڑھنے والوں پر احسان کریں۔

Popular Posts