کردار
بلاگ میں ان ناولز کے سپوئلر ہیں سو اپنی ذمہ داری پر۔
محبت لفظ ہے لیکن
شہر خطا
سارے گلاب لے آنا
سب سے پہلے "محبت لفظ ہے لیکن" کا ضیاء۔ یہ تھا تو ولن اور اس نے لالہ کے ساتھ جو کیا اس کے بعد ہم میں سے کس کو پسند آنا تھا یہ؟ اس سب کے باوجود وہ ایک ناقابل فراموش کردار تھا کیونکہ اس میں "جذبات" تھے۔ وہ لالہ کے ساتھ برا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اسے افسوس تھا اور آخر میں جس طرح اس نے معافی مانگی لالہ سے تو لالہ کے ساتھ ریڈر نے بھی اسے معاف کر دیا۔ وہ ایک طوائف کی عزت کرتا تھا۔ اب میں نے اس حصے کی اس لیے نشاندہی کی کہ "کہانی میں اس کا ایک برا کردار تھا لیکن فطری طور پر وہ ایک اچھا انسان تھا"
ولن ولن ہوتا ہے لیکن اپنی زندگی میں ہر انسان خود کو ہیرو ہی سمجھتا ہے یعنی ولن اپنی طرف کی کہانی کا ہیرو ہونا چاہیے۔ ہاشم کاردار پر اس لیے بات نہیں کررہی کہ وہ نمل بہت پہلے پڑھا تھا اب خاص یاد نہیں۔
"سارے گلاب لے آنا"
عاشر ملک ایک نہایت چول انسان تھا جسے ہر کوئی قتل کرنا چاہے لیکن وہ ایک اچھا کردار تھا وہ برا انسان مگر اچھا کردار تھا کیونکہ اس کردار میں کاملیت تھی۔ وہ صرف کہنے کی حد تک خود پسند اور مغرور نہیں تھا وہ واقعی میں ایسا تھا۔ عموما رائٹر صاحبہ لکھ دیتی ہیں "اس کی تیکھی مغرور ناک اس کے مغرور مزاج کی عکاسی کرتی تھی۔" رائٹر محض لکھ دیتا مگر اس سے کوئی ایسا کام نہیں کرواتا جسے نظر آئے کہ وہ واقعی میں مغرور ہے۔ سارے گلاب لے آنا میں کہانی عاشر ملک نے سنائی تھی۔ فرسٹ پائنٹ آف یو والی کہانیاں تب کامیاب رہتی ہیں جب "کردار بلاجھجک ہر بات سچی سچی بتائے۔" عاشر ملک کی رعونیت صرف سوچ تک نہیں تھی وہ اصل میں اتنا ہی بدتمیز اور حقارت کی نظر سے دیکھنے والا تھا۔ قصہ مختصر اگر آپ نے لکھا ہے کہ میرا کردار ایک نمبر کا چالباز ہے تو دکھائیں کہ وہ ایک نمبر کا چالباز ہے۔
شہر خطا
اس میں ہماری پیاری جادوگرنی ہے۔ نام انادیہ اور نک نیم دیا۔ دیا جب قبر میں لیٹ کر جادو کرتی تو اس وقت میں سچ مچ ڈری تھی۔ باقی سارا ناول بھی اچھا تھا کیونکہ دیا آخر تک مستقل مزاج تھی اپنی نفرت میں۔ وہ شدت پسند تھی۔ اور اس نے جو جادو کئے اور جو اس کا اندازہ گفتگو تھا وہ اس کی نفرت کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ خوبصورت ہی نہیں بڑی شاطر تھی۔ ایک چھوٹی سی ٹپ ہے تب تک اپنے کردار کے بارے میں کچھ واضح نہ لکھیں جب تک اسے کرتا ہوا نہ دکھا دیں۔ مثلا ایک لڑکی کا لکھا کہ اسے طنز کرنے کی بڑی عادت تھی اور جب وہ پورے ناول میں کوئی طنز ہی نہیں کرتی بقول آپ کے اسے "عادت" تھی تو ریڈر کیا کرے؟ شہر خطا میں دیا اور عنایہ پورے ناول میں شدت پسندانہ کام کرتی رہیں اور جب آخری صفحہ پر آیا کہ وہ دونوں ذہنی مریضہ اور شدت پسند تھیں تو سب کچھ کافی "بامعنی" اور "واضح" ہوگیا۔
مرکزی خیال یہ ہے کہ کردار جو بھی ہو چاہے سائڈ کریکٹر ہو اس کی اپنی شخصیت ہونی چاہیے اور اس کی انفرادیت پورے ناول میں برقرار رہے۔ مثلا آپ نے لکھا کہ وہ ناخن چباتا تھا بولنے کے دوران اور پہلے صفحے کے بعد اس نے ناخن ہی نہیں کھائے تو سمجھ رہے ہو؟
کچھ پوچھنا ہو تو یہاں میسج کریں۔
Instagram| fictionwithchocolate