لکھنا شروع کرنے سے پہلے کے آٹھ کام۔۔۔
لکھنا شروع کرنےسے پہلے مندرجہ ذیل آٹھ کام کر لیں۔
1۔ مقصد:
آپ کیوں لکھنا چاہتے ہیں؟ آسان سوال ہے مگر اس کا جواب آسان نہیں ہونا چاہیے۔ لکھنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن مہربانی کر کے تعریفیں بٹورنے کے لیے مت لکھیں۔
تعریف سن کر اچھا لگتا ہے لیکن یہ واحد مقصد رکھنا کہاں کی عقل مندی ہے؟
2۔ لکھتے کیسے ہیں؟
لکھنا شروع کرنے سے پہلے اس بارے میں پڑھیں کہ آخر کہانی کیسے لکھی جاتی ہے؟ کیا یہ فقط چند واقعات اور مکالموں کو جوڑ دینے کا نام ہے یا اس سے بڑھ کر بھی کچھ ہے؟ یوٹوب پر اس سے متعلق ویڈیوز دیکھیں۔ بیش تر بلاگس ملیں گے وہ پڑھیں اور سب سے اچھا تو یہ ہے کہ تین چار کتابیں لکھنے کے فن سے متعلق خرید لیں۔ ویسے آپ یہ بلاگ کیوں پڑھ رہے ہیں؟ لکھنے کی وجہ سے ناں تو بس ایک ایک کر کے ہم ہر موضوع پر بات کریں گے۔
3۔ آئڈیاز:
آپ نے مقصد سوچ لیا اور کچھ کچھ کہانی بنانا بھی سمجھ آگیا۔ سو اب ایک کاغذ لیں اور اس پر وہ تمام آئڈیاز لکھیں جن پر آپ لکھنا چاہتے ہیں۔ نہایت بونگے اور بھونڈے آئڈیاز کو بھی کاغذ پر اتاریں۔ ایک بار کاغذ پر اتار لینے سے آپ کے سامنے سب کچھ ہوگا کہ میرے دماغ میں کیا کیا ہے۔
4۔ آئوٹ لائن:
ان بونگے اور بھونڈے آئڈیاز کو ترتیب دیں یعنی موٹے موٹے پائنٹس میں کہانی کا آغاز، درمیان میں کیا ہوگا اور احتتام لکھیں۔ یہ سب پانچ سے دس سطور میں لکھیں۔ مثلا: جمیل کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش امریکہ جانا ہے۔ (یہ آغاذ ہے) جمیل امریکہ چلا گیا اسے کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔(یہ مڈل ہے) جمیل نے مشکلات کا حل نکال لیا اس نے جان لیا کہ اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے پردیس میں کوئی سکون نہیں(یہ احتتام ہے)۔ اب کمال یہ ہے کہ کیسے ان تین سطور کو تین سو صفحات کا ناول بنایا جائے۔ یہ ہم نے آئوٹ لائن لکھی ہے۔
آئوٹ لائن میں کرداروں کا مقصد واضع ہونا چاہیے۔ کہانی کس نقطے پر شروع اور کس نقطے پر ختم ہوگی اور درمیان میں کیا کچھ آسکتا ہے۔
5۔ موضوع:
آپ جو لکھنا چاہتے ہیں اس طرح کے مواد کا مطالعہ کریں۔ اب اگر وہ چیز ہے ہی نہیں جو آپ لکھ رہے ہیں تو اس سے ملتی جلتی چیزوں کو پڑھیں۔
6۔ مشاہدہ:
لکھنے میں ایک ایسا ٹائم بھی آئے گا جب کسی کی ایک بات پر پوری کہانی بنا ڈالیں تاکہ اس ایک لائن کو لکھ سکیں۔ دوسروں کو غور سے سنیں۔ غور کریں کہ انسان کیسے بولتے۔ کچھ لوگ ذرا اٹک اٹک کر اور کچھ بڑی تیزی میں بولتے ہیں۔ کچھ ناخن کھاتے ہیں کچھ سر کھجاتے ہیں۔ کچھ جھک کر چلتے ہیں کچھ اکڑ کر کچھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتے ہیں اور کچھ لوگ بڑبڑاتے بہت ہیں۔ مشاہدے کو آگے بھی زیر بحث لائیں گے۔ ابھی کے لیے بس اتنا کہ اپنے ماحول کو غور سے دیکھیں۔ غور کریں کہ چیزیں کیسے بگڑتی ہیں اور کیسے ٹھیک ہوتی ہیں؟
7۔ سوشل میڈیا:
آپ کس ویب سائٹ یا رسالے پر اپنا کام پوسٹ کرنا چاہتے ہیں؟ ایک پیج رکھنا کتنا ضروری ہے؟ اور کس نام سے لکھنا چاہیے؟
آپ سوہنی ڈائجسٹ پر لکھیں کیونکہ وہاں آپ کو ذیادہ لوگ پڑھیں گے۔ آپ کو اپنا ایک معیار بنانا پڑے گا۔ جبکہ دوسری ویب سائٹس پر آپ کو سیکھنے کو کچھ نہیں ملے گا۔ اپنا ایک فیس بک یا انسٹاگرام پیج ضرور بنائیں۔ اگر دونوں جگہوں پر بنانا ہے تو ایک ہی نام رکھیں۔ اپنا نام ہی رکھ لیں یا کچھ بھی ایسا جو پڑھنے میں آسان ہو۔ پیج اس لیے بنانا ہے تاکہ لوگوں کو پتا لگے کہ اس الف جیم شخص یا خاتون نے کچھ لکھا ہے۔
8۔ ڈیڈ لائن:
خود کو ایک گول دیں کہ میں نے ایک ماہ میں بیس ہزار الفاظ لکھنے ہیں۔ شروع کرنے سے پہلے دماغ میں زرا بنا لیں کہ یہ کہانی ایک لاکھ الفاظ کی ہوگی اور میں ہر ماہ بیس ہزار الفاظ لکھوں گا لکھوں گی۔۔۔۔
اور بس لکھیں لیکن تھوڑا سوچ کر۔۔۔۔